فهرس الكتاب

الصفحة 5397 من 5761

کتاب: قضا اور قاضیوں کے آداب و مسائل کا بیان

(راویوں کا ) اس حدیث میں ابو اسحاق پر اختلاف کر ذکر

5397 أَخْبَرَنَا أَبُو دَاوُدَ قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ نَافِعٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَقَ قَالَ سَمِعْتُ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ يُحَدِّثُهُ عَنْ الْفَضْلِ بْنِ الْعَبَّاسِ قَالَ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ إِنَّ أَبِي شَيْخٌ كَبِيرٌ لَا يَسْتَطِيعُ الْحَجَّ وَإِنْ حَمَلْتُهُ لَمْ يَسْتَمْسِكْ أَفَأَحُجُّ عَنْهُ قَالَ حُجَّ عَنْ أَبِيكَ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ سُلَيْمَانُ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ الْفَضْلِ بْنِ الْعَبَّاسِ

حضرت فضل بن عباس﷠ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ ایک آدمی نے نبیٔ اکرمﷺ کے پاس آکر کہا: اللہ کے نبی! میرے والد بہت بوڑھے ہیں۔ حج کی طاقت نہیں رکھتے اگر میں انہیں اٹھا کر سواری پر لاد بھی دوں، تب بھی وہ بیٹھ نہیں سکیں گے۔ کیا میں ان کی طرف سے حج ادا کرسکتا ہوں؟ آپ نے فرمایا: ''تو اپنے والد کی طرف سے حج کر۔''

ابو عبد الرحمٰن (امام نسائی﷫) نے کہا: سلیمان (ابن یسار) نے فضل بن عباس﷠ سے نہیں سنا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت