فهرس الكتاب

الصفحة 5663 من 5761

کتاب: مشروبات سے متعلق احکام و مسائل

وہ روایات جن سے معلوم ہوتاہے کہ شراب پینا گناہ کبیرہ ہے

5663 أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ عَنْ الزُّهْرِيِّ قَالَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ وَأَبُو سَلَمَةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَأَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ كُلُّهُمْ حَدَّثُونِي عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلَا يَسْرِقُ السَّارِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلَا يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلَا يَنْتَهِبُ نُهْبَةً ذَاتَ شَرَفٍ يَرْفَعُ الْمُسْلِمُونَ إِلَيْهِ أَبْصَارَهُمْ وَهُوَ مُؤْمِنٌ

حضر ت ابو ہریرہ ﷜ سےروایت ہے کہ نبی اکر م صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:''زانی زنا کرتے وقت مومن نہیں رہتا ۔ چور چور ی کرتے وقت مومن نہیں رہتا ۔ شرابی شراب پیتے وقت مومن نہیں رہتا ۔ اور ڈاکو عظیم الشان ڈاکا مارتے وقت کہ مسلمان اس کی طرف دیکھتے ہی رہ جائیں مو من نہیں رہتا ۔،،

''مومن نہیں رہتا ،،البتہ جب وہ ان کاموں سے نکل جاتا ہے تو ایمان لوٹ آتا ہے ،یعنی وہ کافر نہیں ہو جاتا بلکہ مسلمان ہی رہتا ہے ،البتہ ان کاموں کے دوران میں اس سےنو ر ایمان چھن جاتاہےاور جب ان کاموں سے باز آجا تا ہے تو پھر نو رایمان آجاتاہے ۔اس حدیث کا یہ مفہوم حضرت ابن عباس ؓ نے بیان فرمایا ہے ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت