5666 أَخْبَرَنَا وَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى عَنْ ابْنِ فُضَيْلٍ عَنْ وَائِلِ بْنِ بَكْرٍ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ مَا أُبَالِي شَرِبْتُ الْخَمْرَ أَوْ عَبَدْتُ هَذِهِ السَّارِيَةَ مِنْ دُونِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ
حضرت ابو موسیٰ فرمایا کرتے تھے: مجھے کوئی پروا نہیں کہ میں شراب پیوں یا اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر اس ستوں کی عبادت کروں ۔
(1) ''پروانہیں ،،یعنی میرے نزدیک یہ دونوں کام ایک برابر ہیں کیونکہ شراب پی کر عقل ماؤف ہو جاتی ہے ۔انسان اس حالت میں بھی گنا ہ کر سکتا ہے حتی ٰ کہ شر ک بھی ، اس لیے تو شراب کو ام الخبائث کہا گیا ہے ۔ جس طرح شرک انسان کی تمام نیکیوں کو ختم کر دیتا ہے ، اسی طرح شرابی شخص بھی آہستہ آہستہ تمام نیکیاں چھوڑ بیٹھتا ہے اور تمام گناہوں کا ارتکاب کرنے لگتا ہے ۔یہ مطلب نہیں کہ شراب پینا شرک وکفر ہے بلکہ صرف تشبیہ مقصود ہے ، جیسے ماں اپنےبیٹے کو کہتی ہے کہ یہ میرا چاند ہے ۔
(2) ''اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر ،، یا اللہ تعالیٰ کے سوا ، یعنی اس کی پوجا کے ساتھ ساتھ ستون کی بھی پوجا کروں اور یہ دونوں صورتیں شر ک اور کفر ہیں۔