فهرس الكتاب

الصفحة 5733 من 5761

کتاب: مشروبات سے متعلق احکام و مسائل

انگوروں کا جوس کس حال میں پینا جائز ہے اور کس میں ناجائز ؟

5733 أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ قِرَاءَةً أَخْبَرَنِي عَطَاءٌ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ يَقُولُ وَاللَّهِ مَا تُحِلُّ النَّارُ شَيْئًا وَلَا تُحَرِّمُهُ قَالَ ثُمَّ فَسَّرَ لِي قَوْلَهُ لَا تُحِلُّ شَيْئًا لِقَوْلِهِمْ فِي الطِّلَاءِ وَلَا تُحَرِّمُهُ الْوُضُوءُ مِمَّا مَسَّتْ النَّارُ

حضرت عطاء نے بتا یا کہ میں نےحضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا اللہ کی قسم آگ نہ کسی چیز کو حلال کرسکتی ہے نہ حرام ۔پھر حضرت عطاء نے اس قول کی تفسیر بیان کی کہ لوگ کہتے ہیں نشہ آور مشروب کو آگ پر پکاکر طلاء بنالیاجائے تو وہ حلال ہوجاتا ہے (حالانکہ یہ ممکن نہیں) ۔آگ کسی چیز کو حلال نہیں کرسکتی ہے۔جس طرح آگ سے پکی ہوئی چیز سے وضو کرنے کا مسئلہ ہے۔

حرام بھی نہیں کرسکتی ہے یعنی صرف آگ پر پکنے سے کوئی چیز حرام نہیں ہوجائے گی الا یہ کہ اس میں نشہ ہو یا وہ پہلے سے حرام ہوجیسے کوئی حلال چیز آگ پر پکائی جائے تو اس کوکھانے سے وضو نہیں ٹوٹے گا بلکہ حلال چیز حلال ہی رہے گی اور وضو بھی قائم رہے گا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت