فهرس الكتاب
5734 أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ عَنْ حَيْوَةَ بْنِ شُرَيْحٍ قَالَ أَخْبَرَنِي عُقَيْلٌ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ اشْرَبْ الْعَصِيرَ مَا لَمْ يُزْبِدْ
حضرت سعید بن مسیب نے فرمایا کہ انگوروں کا جوس اس وقت پی سکتے ہو جب تک اس میں جھاگ پیدا نہ ہو۔
جھاگ پیدا ہونا تغیر پر دلالت کرتا ہےاور یہ نشے کی علامت ہے لہذا انگوروں کاجوس اتنا پرانا ہوجائے کہ اس میں جوش یا جھاگ پیدا ہوجائے تو اس کا استعمال حرام ہوجاتا ہے البتہ آگ پر گرم کرنے سے جوش یا جھاگ پیدا ہو تو کوئی کوئی حرج نہیں کہ وہ نشے کی بنا پر نہیں بلکہ آگ کی وجہ سے ہے۔