فهرس الكتاب

الصفحة 2328 من 5761

کتاب: روزے سے متعلق احکام و مسائل

رووزے کی نیت اور اس بارے میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث(کے بیان کرنے)میں طلحہ بن یحیٰ بن طلحہ کے شاگردوں کا اختلاف

2328 أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى قَالَ حَدَّثَنَا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى قَالَ حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ بِنْتُ طَلْحَةَ عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَأْتِيهَا وَهُوَ صَائِمٌ فَقَالَ أَصْبَحَ عِنْدَكُمْ شَيْءٌ تُطْعِمِينِيهِ فَنَقُولُ لَا فَيَقُولُ إِنِّي صَائِمٌ ثُمَّ جَاءَهَا بَعْدَ ذَلِكَ فَقَالَتْ أُهْدِيَتْ لَنَا هَدِيَّةٌ فَقَالَ مَا هِيَ قَالَتْ حَيْسٌ قَالَ قَدْ أَصْبَحْتُ صَائِمًا فَأَكَلَ

ام المومنین حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ بسا اوقات رسول اللہﷺ میرے پاس تشریف لاتے۔ آپ کا روزہ ہوتا۔ آپ فرماتے: ''تمہارے پاس کھانے کی کوئی چیز ہے؟'' میں کہتی: نہیں۔ آپ فرماتے: ''چلو، میرا روزہ ہے۔'' پھر اس کے بعد ایک دن آئے تو میں نے کہا: آج ہمارے پاس تحفہ آیا ہے۔ آپ نے فرمایا: ''کیا؟'' میں نے کہا: حیس۔ آپ نے فرمایا: ''میں نے آج صبح روزے کی نیت کی تھی۔'' پھر آپ نے کھا لیا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت