فهرس الكتاب

الصفحة 4546 من 5761

کتاب: خریدو فروخت سے متعلق احکام و مسائل

باب:۔ عطیہ کے درختوں کا پھل تازہ کھجوروں کے عوض بھی فروخت کرنا

4546 أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ يَحْيَى عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ بَيْعِ الثَّمَرِ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهُ وَرَخَّصَ فِي الْعَرَايَا أَنْ تُبَاعَ بِخِرْصِهَا يَأْكُلُهَا أَهْلُهَا رُطَبًا

حضرت سہل بن ابی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے پکنے سے پہلے پھل کی فروخت سے روکا ہے۔ اور عطیہ کے درختوں کے بارے میں اجازت عطا فرمائی ہے کہ ان کا پھل اندازا اس کے برابر خشک پھل کے عوض فروخت کر دیا جاتے تا کہ ان درختوں والے غریب لوگ (جلدی تازہ کھجوریں کھا سکیں۔

فائدہ: ''تازہ کھجوریں کھا سکیں'' کیو نکہ درخت والی کھجوریں تو دیر سے حاصل ہونا شروع ہوں گی۔ غریب کے لیے انتظار مشکل ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت