فهرس الكتاب

الصفحة 4547 من 5761

کتاب: خریدو فروخت سے متعلق احکام و مسائل

باب:۔ عطیہ کے درختوں کا پھل تازہ کھجوروں کے عوض بھی فروخت کرنا

4547 أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ قَالَ حَدَّثَنِي الْوَلِيدُ بْنُ كَثِيرٍ قَالَ أَخْبَرَنِي بُشَيْرُ بْنُ يَسَارٍ أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ وَسَهْلَ بْنَ أَبِي حَثْمَةَ حَدَّثَاهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الْمُزَابَنَةِ بَيْعُ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ إِلَّا لِأَصْحَابِ الْعَرَايَا فَإِنَّهُ أَذِنَ لَهُمْ

حضرت رافع بن خدیج اور حضرت سہل بن ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مزابنہ سے منع فرمایا، یعنی درخت پر لگی ہوئی کھجوروں کا سودا خشک کھجوروں سے کیا جائے، البتہ آپ نے عطیہ والے درختوں کے مالکوں کو (پانچ و سق تک) اس بیع کی اجازت دی۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت