فهرس الكتاب

الصفحة 5045 من 5761

کتاب: سنن کبری سے زینت کے متعلق احکام و مسائل

فطری چیزیں (جن سے زینت حاصل ہوتی ہے)

5045 أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ أَبِي بِشْرٍ عَنْ طَلْقِ بْنِ حَبِيبٍ قَالَ عَشْرَةٌ مِنْ السُّنَّةِ السِّوَاكُ وَقَصُّ الشَّارِبِ وَالْمَضْمَضَةُ وَالِاسْتِنْشَاقُ وَتَوْفِيرُ اللِّحْيَةِ وَقَصُّ الْأَظْفَارِ وَنَتْفُ الْإِبْطِ وَالْخِتَانُ وَحَلْقُ الْعَانَةِ وَغَسْلُ الدُّبُرِ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ وَحَدِيثُ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ وَجَعْفَرِ بْنِ إِيَاسٍ أَشْبَهُ بِالصَّوَابِ مِنْ حَدِيثِ مُصْعَبِ بْنِ شَيْبَةَ وَمُصْعَبٌ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ

حضرت طلق بن حبیب نے فرمایا: دس چیزیں ( انبیاء﷩کی ) سنت ہیں: مسواک کرنا، مونچھیں کاٹنا، کلی کرنا، ناک کی صفائی کرنا، ڈاڑھی پوری رکھنا،ناخن تراشنا، بغلوں کے بال اکھیڑنا، ختنہ کروانا، زیر ناف (شرم گاہ) کے بال مونڈنا اور (قضائے حاجت کے بعد) پشت دھونا۔

ابوعبدالرحمن ( امام نسائی﷫) نے فرمایا: سلیمان تیمی کی حدیث ( جو اس حدیث سے پہلے بیان ہوئی ہے) اور حعفر بن ایاس کی مذکورہ ( یہی) حدیث مصعب بن شیبہ کی حدیث ( باب کی پہلی حدیث) سے زیادہ درست ہے۔ مصعب (ابن شیبہ) منکر الحدیث (ضعیف راوی) ہے۔

1۔ پشت دھونا، ڈھیلے استعمال کرنے سے بھی گزارا تو ہو جاتا ہے مگر پوری صفائی نہیں ہوتی۔ مکمل صفائی پانی ہی سے ممکن ہے، لہذا کم از کم تین ڈھیلوں سے استنجا فرض ہے۔ اور پانی کے ساتھ افضل ہے۔ حدیث نمبر5043 میں انتقاص الماء سے بھی یہی مرادہے۔ 2۔ ان کا موں سے انسان کو زینت حاصل ہوتی ہے۔ صفائی مکمل ہوتی ہے۔ وہ مہذب دکھائی دیتا ہے، لہذا ان کو کتاب الزینہ میں ذکر فرمایا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت