فهرس الكتاب
5745 أَخْبَرَنَا سُوَيْدٌ قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ سَمِعْتُ سُفْيَانَ سُئِلَ عَنْ النَّبِيذِ قَالَ انْتَبِذْ عَشِيًّا وَاشْرَبْهُ غُدْوَةً
حضرت عبداللہ (بن مبارک) نے فرمایا کہ حضرت سفیان (ثوری) سے نبیذ کے بارے میں پوچھا گیا تو میں نے انھیں فرماتے سنا کہ رات کو نبیذ بنا اور صبح پی لے
یعنی ایک دن رات سے زائد نہ رکھ۔رات کی بنی ہوئی نبیذ دن کو کسی وقت پی جاسکتی ہے۔اور اگر موسم ساتھ دے یعنی نشے کا امکان نہ ہوتو اس سے زائد بھی رکھی جاسکتی ہے جیسا کہ پیچھے گزرا ۔