ان (منہ بولے بیٹوں) کو ان کے باپوں کے نام سے پکارا کرو۔ اللہ کے ہاں یہی انصاف کی بات ہے۔ اور اگر تمہیں ان کے باپوں (کے نام) کا علم نہ ہو [4] تو وہ تمہارے دینی بھائی اور تمہارے دوست ہیں۔ اور کوئی بات تم بھول چوک کی بنا پر کہہ دو تو اس میں تم پر کوئی گرفت [5] نہیں، مگر جو دل کے ارادہ [6] سے کہو (اس پر ضرورگرفت ہوگی۔) اللہ تعالیٰ یقینًا معاف [7] کرنے والا ہے، رحم کرنے والا ہے۔