اور جب آپ اس شخص [56] کو، جس پر اللہ نے بھی احسان کیا تھا اور آپ نے بھی، یہ کہہ رہے تھے کہ: ''اپنی بیوی کو اپنے [57] پاس ہی رکھو اور اللہ سے ڈرو'' تو اس وقت آپ ایسی بات اپنے دل میں چھپا [58] رہے تھے جسے اللہ ظاہر کرنا چاہتا تھا۔ آپ لوگوں سے ڈر رہے تھے، حالانکہ اللہ اس بات کا زیادہ حقدار ہے کہ آپ اس سے ڈریں۔ پھر جب [59] زید اس عورت سے اپنی حاجت پوری کرچکا تو ہم نے آپ [60] سے اس (عورت) کا نکاح کردیا، تاکہ مومنوں پر ان کے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں کے بارے میں کوئی تنگی نہ رہے جبکہ وہ ان سے اپنی حاجت پوری کرچکے ہوں اور اللہ کا حکم ہو کر رہنے والا [61] ہے۔