فهرس الكتاب

الصفحة 100 من 5274

کتاب: طہارت کے مسائل

باب: پیتل کے برتن سے وضو

100 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ وَسَهْلُ بْنُ حَمَّادٍ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ جَاءَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْرَجْنَا لَهُ مَاءً فِي تَوْرٍ مِنْ صُفْرٍ فَتَوَضَّأَ

سیدنا عبداللہ بن زید ؓ کہتے ہیں کہ ( ایک بار ) رسول اللہ ﷺ ہمارے ہاں تشریف لائے تو ہم نے آپ ﷺ کے لیے پیتل کے برتن میں پانی پیش کیا اور آپ ﷺ نے اس سے وضو کیا ۔

فائدہ: چونکہ پیتل اور کانسی کے برتنوں میں سونے کی سی رنگت ہوتی ہے اس لیے امام صاحب رحمہ اللہ نے اس شبہے کو زائل کرنے کے لیے یہ روایات پیش فرمائی ہیں۔ البتہ خالص سونے، چاندی یا ان سے ملمع شدہ برتن استعمال کرنا جائز نہیں ہیں۔ صرف ٹانکے کی حدتک جائز ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت