فهرس الكتاب

الصفحة 3207 من 5274

کتاب: جنازے کے احکام و مسائل

باب: قبر کھودنے والے کو کوئی ہڈی مل جائے تو کیا وہ اس جگہ کو کریدے( یا چھوڑ دے )

3207 حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ سَعْدٍ يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ كَسْرُ عَظْمِ الْمَيِّتِ كَكَسْرِهِ حَيًّا

ام المؤمنین سیدہ عائشہ ؓا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا " میت کی ہڈی توڑنا ایسے ہی ہے جیسے کہ زندہ کی توڑنا ۔ "

1۔قبر کھودنے والے کو قبر کھودتے ہوئے محسوس ہوکہ یہاں پہلے سے کوئی دفن ہے تو مستحب ہے کہ جگہ بدل لے یا ادب واحترام سے ان ہڈیوں کو ایک طرف کردے اور انہیں کسی قسم کی چوٹ نہ لگنے دے۔2۔موجودہ دور میں پوسٹ مارٹم کے نام سے مردے کی چیر پھاڑ کا کام غیرشرعی ہے۔ انتہائی شدید شرعی مصلحت کے بغیر اسی پرعمل کرنا ناجائز ہے۔3۔اموات اور قبور کا احترام اسی انداز میں مشروع ہے۔جو ان احادیث میں بیان ہورہاہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت