فهرس الكتاب

الصفحة 2179 من 5274

کتاب: طلاق کے احکام و مسائل

باب: طلاق کا سنت طریقہ کیا ہے ؟

2179 حَدَّثَنَاالْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ -وَهِيَ حَائِضٌ- عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَأَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: >مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا، ثُمَّ لِيُمْسِكْهَا، حَتَّى تَطْهُرَ، ثُمَّ تَحِيضَ، ثُمَّ تَطْهُرَ، ثُمَّ إِنْ شَاءَ أَمْسَكَ بَعْدَ ذَلِكَ، وَإِنْ شَاءَ طَلَّقَ قَبْلَ أَنْ يَمَسَّ، فَتِلْكَ الْعِدَّةُ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ أَنْ تُطَلَّقَ لَهَا النِّسَاءُ.

سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں اپنی بیوی کو طلاق دے دی جبکہ وہ ایام حیض میں تھی ۔ سیدنا عمر ؓ نے اس کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا " اس کو حکم دو کہ اس سے رجوع کرے ، پھر اس کو اپنے ہاں رکھے حتیٰ کہ وہ پاک ہو ، پھر اسے حیض آئے ، پھر پاک ہو ، پھر اگر چاہے تو اسے بیوی بنائے رکھے یا چاہے تو طلاق دیدے ( مگر ) مباشرت سے پہلے اور یہی وہ عدت ہے جس کے موقع پر اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو طلاق دینے کا حکم دیا ہے ۔ "

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت