916 حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ سَلَّامٍ، عَنْ زَيْدٍ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَّامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي السَّلُولِيُّ هُوَ أَبُو كَبْشَةَ، عَنْ سَهْلِ ابْنِ الْحَنْظَلِيَّةِ، قَالَ: ثُوِّبَ بِالصَّلَاةِ -يَعْنِي: صَلَاةَ الصُّبْحِ-، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَهُوَ يَلْتَفِتُ إِلَى الشِّعْبِ. قَالَ أَبو دَاود: وَكَانَ أَرْسَلَ فَارِسًا إِلَى الشِّعْبِ مِنَ اللَّيْلِ يَحْرُسُ.
سیدنا سہل بن حنظلیہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نماز فجر کی اقامت کہی گئی اور رسول اللہ ﷺ نماز پڑھانے لگے اور آپ ﷺ اس دوران میں ایک گھاٹی کی طرف دیکھ رہے تھے ۔ امام ابوداؤد ؓ نے بیان کیا کہ آپ نے ایک شہسوار کو اس گھاٹی کی طرف رات میں پہرے کے لیے بھیجا تھا ۔
یہ حدیث اور دیگر وہ احادیث جن میں التفات سے منع کیا گیاہے۔ ان کے درمیان تطبیق یوں دی گئی ہے کہ گردن موڑے بغیر اشد ضرورت سے دیکھنا جائز ہے ورنہ ممنوع۔
یہ حدیث اور دیگر وہ احادیث جن میں التفات سے منع کیا گیاہے۔ ان کے درمیان تطبیق یوں دی گئی ہے کہ گردن موڑے بغیر اشد ضرورت سے دیکھنا جائز ہے ورنہ ممنوع۔