فهرس الكتاب

الصفحة 2022 من 5274

کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل

باب: مکے میں اقامت کا بیان

2022 حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي الدَّرَاوَرْدِيَّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حُمَيْدٍ أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ يَسْأَلُ السَّائِبَ بْنَ يَزِيدَ هَلْ سَمِعْتَ فِي الْإِقَامَةِ بِمَكَّةَ شَيْئًا قَالَ أَخْبَرَنِي ابْنُ الْحَضْرَمِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لِلْمُهَاجِرِينَ إِقَامَةٌ بَعْدَ الصَّدْرِ ثَلَاثًا»

سیدنا عمر بن عبدالعزیز ؓ نے سائب بن یزید سے پوچھا: کیا آپ نے مکہ میں اقامت کے بارے میں کچھ سنا ہے ؟ تو انہوں نے کہا کہ سیدنا علاء بن حضرمی ؓ نے مجھے بتایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا تھا ، آپ ﷺ فرماتے تھے مہاجر لوگ طواف صدر ( افاضہ ) کے بعد تین دن تک رک سکتے ہیں ۔

1۔تکمیل حج کے بعد مہاجرین مدینہ کے لئے بالخصوص پابندی تھی کہ جس شہر کو انہوں نے اللہ کی رضا کے لئے چھوڑ دیا ہے وہاں کسی طرح اقامت نہ کریں تاکہ ہجرت کے اجروثواب میں کمی نہ ہو۔2۔اامام شافعی رحمۃ اللہ علیہ اسی حدیث سے قیاس فرماتے ہیں۔کہ مسافر اگر کہیں تین دن سے زیادہ اقامت کی نیت کرلے تو وہاں کا مقیم سمجھا جائے گا۔اس لئے اسے نماز پوری پڑھنی چاہیے۔ (کتاب الام للشافعی رحمۃ اللہ علیہ ) گویا اس فرمان نبوی ﷺسے مدت سفر کی تعین پر بھی استدلال کیا گیا ہے۔جس کی تایئد نبی کریمﷺکےعمل سے بھی ہوتی ہے۔ (تفصیل کےلئے دیکھئے۔ مسنون نماز ازحافظ صلاح الدین یوسف)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت