فهرس الكتاب

الصفحة 1040 من 5274

کتاب: نماز شروع کرنے کے احکام ومسائل

باب: نماز کے بعد عورتیں مردوں سے پہلے واپس ہوں

1040 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ هِنْدِ بِنْتِ الْحَارِثِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا سَلَّمَ مَكَثَ قَلِيلًا. وَكَانُوا يَرَوْنَ أَنَّ ذَلِكَ كَيْمَا يَنْفُذُ النِّسَاءُ قَبْلَ الرِّجَالِ.

ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ ؓا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب سلام کہہ لیتے تو تھوڑی دیر رکے رہتے ۔ اور صحابہ سمجھتے تھے کہ یہ اس لیے ہوتا تھا کہ عورتیں مردوں سے پہلے لوٹ جائیں ۔

اسلامی معاشرے میں مردوں اور عورتوں کا بغیر پردے کے بے ہنگم از دعام اور میل جول قطعا پسندیدہ نہیں ہے۔ اور مسلمان وحضرات وخواتین کو چاہیے کہ شمے اوتہمت کے مواقع سے ہمیشہ دور رہیں اور اختلاط سے بچنے کی ہرممکن کوشش کریں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت