فهرس الكتاب

الصفحة 1862 من 5274

کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل

باب: اگر کوئی حج سے روک دیا جائے تو...

1862 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ حَجَّاجٍ الصَّوَّافِ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ عِكْرِمَةَ قَالَ سَمِعْتُ الْحَجَّاجَ بْنَ عَمْرٍو الْأَنْصَارِيَّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ كُسِرَ أَوْ عَرِجَ فَقَدْ حَلَّ وَعَلَيْهِ الْحَجُّ مِنْ قَابِلٍ قَالَ عِكْرِمَةُ سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ وَأَبَا هُرَيْرَةَ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَا صَدَقَ

سیدنا حجاج بن عمرو انصاری ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا " جس کی ہڈی ٹوٹ جائے یا لنگڑا ہو جائے تو وہ حلال ہو گیا ۔ ( یعنی اس کے لیے حلال ہو جانا مباح ہے ) اور آئندہ کے لیے اس پر حج ہے ۔ " جناب عکرمہ کہتے ہیں میں نے سیدنا ابن عباس ؓ اور ابوہریرہ ؓ سے اس بارے میں پوچھا ، ان دونوں نے ( حجاج کی روایت کی ) تصدیق کی ۔

آئندہ حج کے لئے آنافرض کی قضا تو فرض ہے۔اگر یہ حج نفل ہوتو بھی راحج یہی ہے کہ دوبارہ آئے اور یہی حکم عمرہ کا ہے۔اور ظاہر ہے کہ یہ احکام استطاعت اوروسائل ہی پر مبنی ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت