فهرس الكتاب

الصفحة 4568 من 5274

کتاب: دیتوں کا بیان

باب: پیٹ کے بچے کی دیت

4568 حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمَرِيُّ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نَضْلَةَ عَنْ الْمُغِيَرةِ بْنِ شُعْبَةَ أَنَّ امْرَأَتَيْنِ كَانَتَا تَحْتَ رَجُلٍ مِنْ هُذَيْلٍ فَضَرَبَتْ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى بِعَمُودٍ فَقَتَلَتْهَا وَجَنِينَهَا فَاخْتَصَمُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ أَحَدُ الرَّجُلَيْنِ كَيْفَ نَدِي مَنْ لَا صَاحَ وَلَا أَكَلَ وَلَا شَرِبَ وَلَا اسْتَهَلَّ فَقَالَ أَسَجْعٌ كَسَجْعِ الْأَعْرَابِ فَقَضَى فِيهِ بِغُرَّةٍ وَجَعَلَهُ عَلَى عَاقِلَةِ الْمَرْأَةِ .

سیدنا مغیرہ بن شعبہ ؓ سے روایت ہے کہ و عورتیں بنو ہذیل کے ایک آدمی کی زوجیت میں تھیں ۔ ان میں سے ایک نے دوسری کو خیمے کا بانس دے مارا اور اسے اور اس کے پیٹ کے بچے کو قتل کر دیا ۔ وہ لوگ اپنا جھگڑا نبی کریم ﷺ کے پاس لے آئے ۔ تو دونوں اطراف کے لوگوں میں سے کسی ایک نے کہا: کس طرح دیت دیں ہم اس کی جو نہ رویا نہ کھایا ، نہ پیا نہ چلایا ۔ رسول اللہ ﷺ نے ( اس کے انداز گفتگو پر ) فرمایا کیا دیہاتیوں کی سی سجع ہے ۔ الغرض آپ ﷺ نے فرمایا ( اس بچے دی دیت ) ایک غلام ہے اور اسے قاتلہ کے وارثوں کے ذمے لگایا کہ وہ ادا کریں ۔

1: عورت اگر جرم کرے تو اس دیت اس وارثوں کے ذمے ہے ۔ 2: اگر پیٹ کا بچہ مار دیا گیا تو اس دیت ایک غلام ہے ۔ 3: جاہلوں کے اندر میں تکلف سے باتیں کرنا معیوب ہے دوسری روایت میں اسے جہلا ء اور کاہنوں کی سجع سے تشبیہ دی گئی ہے ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت