فهرس الكتاب

الصفحة 2858 من 5274

کتاب: شکار کے احکام و مسائل

باب: زندہ جانور سے کاٹا گیا گوشت حرام ہے

2858 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي وَاقِدٍ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قُطِعَ مِنْ الْبَهِيمَةِ وَهِيَ حَيَّةٌ فَهِيَ مَيْتَةٌ

سیدنا ابوواقد لیثی ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا " جانور سے جو گوشت کاٹا جائے ' جبکہ وہ جانور زندہ ہو تو وہ گوشت مردار ( حرام ) ہے ۔ "

یعنی عرب کے متعلق آتا ہے۔کہ وہ دنبے کی چکتی کاٹ لیتے۔ اور ذخم پر دوا لگا دیتے۔اس طرح جانور بھی ذندہ رہتااورگوشت بھی کھا لیتے۔توشریعت نے اس کو مردار فرمایاہے۔یعنی حرام ہے۔اورکتاب الصید میں اس حدیث کاتعلق یوں ہے۔ کہ اگرشکاری کتے نے یا تیر اورگولی وغیرہ نے جانور کاکوئی حصہ علیحدہ کردیا گیا ہو اگر اسی حالت میں جان نکل گئی ہو تو دونوں ٹکڑے حلال ہیں۔لیکن اگرروح نہیں نکلی اور کوئی حصہ الگ ہوچکا ہو۔اورپھر اسے ذبح کی جارہاہوتو زبح سے پہلے علیحدہ ہوجانے والا حصہ کھانے میں احتیاط کرنی چاہیے۔ورنہ نشانہ مارتے ہوئے بسم اللہ تو پڑھی جاچکی ہے۔اسے بھی کھایا جاسکتاہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت