فهرس الكتاب

الصفحة 4240 من 5274

کتاب: فتنوں اور جنگوں کا بیان

باب: فتنوں کا بیان اور ان کے دلائل

4240 حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، قَالَ: قَامَ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمًا، فَمَا تَرَكَ شَيْئًا يَكُونُ فِي مَقَامِهِ ذَلِكَ إِلَى قِيَامِ السَّاعَةِ إِلَّا حَدَّثَهُ, حَفِظَهُ مَنْ حَفِظَهُ، وَنَسِيَهُ مَنْ نَسِيَهُ، قَدْ عَلِمَهُ أَصْحَابُهُ هَؤُلَاءِ، وَإِنَّهُ لَيَكُونُ مِنْهُ الشَّيْءُ فَأَذْكُرُهُ, كَمَا يَذْكُرُ الرَّجُلُ وَجْهَ الرَّجُلِ إِذَا غَابَ عَنْهُ، ثُمَّ إِذَا رَآهُ عَرَفَهُ.

سیدنا حذیفہ ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ ہم میں ( خطبہ دینے کے لیے ) کھڑے ہوئے ۔ آپ ﷺ نے اپنے اس مقام پر قیامت تک جو ہونے والا تھا سب بیان کیا اور اس میں سے کچھ نہ چھوڑا ۔ یاد رکھنے والے نے اسے یاد رکھا اور بھولنے والے نے اسے بھلا دیا ۔ یقینًا میرے ان ساتھیوں ( رسول اللہ ﷺ کے صحابہ ) کو وہ یاد ہو گا اور جب ان واقعات میں سے کوئی پیش آتا ہے تو مجھے وہ سب یاد آ جاتا ہے جیسے کسی کو کسی کے چلے جانے کے بعد اس کا چہرہ یاد رہتا ہے پھر مدت بعد جب اسے دیکھتا ہے تو اسے پہچان لیتا ہے ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت