فهرس الكتاب

الصفحة 2957 من 5274

کتاب: محصورات اراضی اور امارت سے متعلق احکام و مسائل

باب: جہاد میں کب کسی کو باقاعدہ قتال کا موقع دیا جائے؟

2957 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ عَنْ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُرِضَهُ يَوْمَ أُحُدٍ وَهُوَ ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ فَلَمْ يُجِزْهُ وَعُرِضَهُ يَوْمَ الْخَنْدَقِ وَهُوَ ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً فَأَجَازَهُ

سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ سے روایت ہے کہ ا ن کو غزوہ احد کے دن نبی کریم ﷺ پر پیش کیا گیا جبکہ ان کی عمر چودہ سال تھی ' تو آپ ﷺ نے اجازت نہ دی ۔ اور پھر ( اگلے سال ) خندق کے موقع پر پیش کیا گیا جبکہ اس وقت ان کی عمر پندرہ سال تھی ' تو آپ ﷺ نے اجازت دے دی ۔

بچہ پندرہ سال کی عمر میں بالغ شمار ہوتا ہے۔اور شرعی امور کا مکلف ہوجاتاہے۔لہذا اسے جنگ وقتال میں بھی شریک کیا جاسکتا ہے۔اس سے پہلے اسے جنگ میں لے جانا درست نہیں۔2۔اور جب جنگ میں شریک ہوگا۔تو غنیمت میں سے باقاعدہ حصہ پائے گا۔3۔پندرہ سال یا علامات بلوغت سے پہلے اگر کسی جرم کا ارتکاب کرے تو اس پر شرعی حد لاگو نہیں ہوگی ۔تعزیر وتادیب ہوگی۔ اسی طرح اس کی دی ہوئی طلاق بھی نافذ العمل نہیں ہوگی۔ فیصلے میں اس کے ولی کی شمولیت ضروری ہوگی اور اسے اپنے مال سے باقاعدہ اور آزادانہ تصرف کا اختیار بھی اس کے بعد حاصل ہوگا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت