فهرس الكتاب

الصفحة 3181 من 5274

کتاب: جنازے کے احکام و مسائل

باب: جنازہ جلدی لے جانے کا بیان

3181 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَسْرِعُوا بِالْجَنَازَةِ فَإِنْ تَكُ صَالِحَةً فَخَيْرٌ تُقَدِّمُونَهَا إِلَيْهِ وَإِنْ تَكُ سِوَى ذَلِكَ فَشَرٌّ تَضَعُونَهُ عَنْ رِقَابِكُمْ

سیدنا ابوہریرہ ؓ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا " جنازہ جلدی لے جاؤ ، اگر وہ نیک اور صالح ہے تو تم اسے بھلائی کی طرف آگے لے جا رہے ہو اور اگر وہ اس کے سوا ہے تو وہ ایک شر ہے جسے تم اپنی گردنوں سے اتار پھینک رہے ہو ۔"

وفات ہوجانے کے بعد میت کو دفن کرنے میں جلدی کرنی چاہیے۔دوردراز کے اقارب واحباب کو جمع کرنا اور ان کی آمد کے انتظار میں تاخیر کرنا ایک غیر شرعی اور نامناسب عمل ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت