فهرس الكتاب

الصفحة 3449 من 5274

کتاب: اجارے کے احکام و مسائل

باب: دراہم کو توڑنا منع ہے

3449 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ فَضَاءٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُكْسَرَ سِكَّةُ الْمُسْلِمِينَ الْجَائِزَةُ بَيْنَهُمْ, إِلَّا مِنْ بَأْسٍ.

جناب علقمہ بن عبداللہ اپنے والد سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں میں رائج الوقت سکے کو توڑنے سے منع فرمایا ہے سوائے اس کے کہ کوئی خاص ضرورت ہو ۔

فائدہ۔یہ روایت سندا ضعیف ہے۔ اور مراد اس سے یہ ہے کہ حکومت کی طرف سے مہر شدہ سکوں کو عام دھات میں ڈال لینا جائز نہیں۔یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ بعض لوگ سکوں کو تعامل (کرنسی) کے علاوہ اور انداز سے بھی استعمال کرتے ہیں۔یہ تو سب درست نہیں۔کیونکہ اس سے لوگوں کولین دین میں پریشانی ہوتی ہے۔کرنسی نوٹوں کوخراب کرنا بھی از حد معیوب بات ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت