فهرس الكتاب

الصفحة 3102 من 5274

کتاب: جنازے کے احکام و مسائل

باب: کسی کی آنکھ خراب ہو جائے تو اس کی عیادت کے لیے جانا

3102 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَقَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ عَادَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ وَجَعٍ كَانَ بِعَيْنِي

سیدنا زید بن ارقم ؓ سے روایت ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ میری عیادت کے لیے تشریف لائے جبکہ میری آنکھ میں درد تھا ۔

عیاد ت کےلئے کوئی ضروری نہیں کہ مریض کسی شدید بیماری ہی میں مبتلا ہو۔ تو اس کی عیادت کےلئے جایا جائے۔بلکہ کسی عام تکلیف میں بھی بیمار پرسی ہو تو بہت اچھی بات ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت