فهرس الكتاب

الصفحة 305 من 5274

کتاب: طہارت کے مسائل

باب: ان لوگوں کی دلیل جو(مستحاضہ کوعلاوہ خون کے)کسی حدث کے لاحق ہونے...

305 حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا أَبُو بِشْرٍ، عَنْ عِكْرِمَةِ، أَنَّ أُمَّ حَبِيبَةَ بِنْتَ جَحْشٍ اسْتُحِيضَتْ، فَأَمَرَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تَنْتَظِرَ أَيَّامَ أَقْرَائِهَا، ثُمَّ تَغْتَسِلُ وَتُصَلِّي، فَإِنْ رَأَتْ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ تَوَضَّأَتْ وَصَلَّتْ.

جناب عکرمہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ ام حبیبہ بنت جحش ؓا کو استحاضہ شروع ہو گیا تو نبی کریم ﷺ نے اسے حکم دیا " اپنے ایام حیض ( کے ختم ہونے ) کا انتظار کرے ۔ پھر غسل کرے اور نماز پڑھنا شروع کر دے ۔ اگر ( خون کے علاوہ ) کوئی حدث محسوس کرے تو وضو کرے اور نماز پڑھے ۔ "

یہ روایت سندًا ضعیف ہے۔ اس لیے راجح بات یہی ہے کہ مستحاضہ ہر نماز کے لیے وضو کرے، چاہے اس کا سابقہ وضو برقرار بھی ہو۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت