309 حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ مَنْصُورٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُسْهِرٍ عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: كَانَتْ أُمُّ حَبِيبَةَ تُسْتَحَاضُ، فَكَانَ زَوْجُهَا يَغْشَاهَا قَالَ أبو دَاود: و قَالَ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ مُعَلَّى ثِقَةٌ وَكَانَ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ لَا يَرْوِي عَنْهُ, لِأَنَّهُ كَانَ يَنْظُرُ فِي الرَّأْيِ .
جناب عکرمہ نے بیان کیا کہ سیدہ ام حبیبہ ؓا کو استحاضہ ہوتا تھا اور ان کا شوہر ان سے مجامعت کیا کرتا تھا ۔ امام ابوداؤد ؓ نے کہا: یحییٰ بن معین نے معلی کو ثقہ کہا ہے ۔ جب کہ امام احمد بن حنبل ؓ اس سے کچھ روایت نہ کرتے تھے کیونکہ وہ رائے اور قیاس کی طرف مائل تھے ۔
مقدمہ فتح الباری میں ہے کہ یہ وہی احادیث بیان کرتے تھے جو رائے اور قیاس کے موافق ہوتی تھیں اور غلطیاں بھی کرتے تھے۔