فهرس الكتاب

الصفحة 2340 من 5274

کتاب: روزوں کے احکام و مسائل

باب: رمضان کے چاند میں ایک آدمی کی گواہی بھی کافی ہے

2340 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ الرَّيَّانِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي ثَوْرٍ ح، وحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ يَعْنِي الْجُعْفِيَّ، عَنْ زَائِدَةَ الْمَعْنَى، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي رَأَيْتُ الْهِلَالَ- قَالَ الْحَسَنُ فِي حَدِيثِهِ: يَعْنِي: رَمَضَانَ-، فَقَالَ: أَتَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ؟ ، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: أَتَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ؟، قَالَ: نَعَمْ قَالَ: يَا بِلَالُ! أَذِّنْ فِي النَّاسِ، فَلْيَصُومُوا غَدًا.

سیدنا ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک اعرابی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں آیا اور کہا: میں نے چاند دیکھا ہے ۔ حسن بن علی نے اپنی حدیث میں صراحت کرتے ہوئے کہا کہ مراد رمضان کا چاند ۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا " کیا تو «لا إله إلا الله» کی گواہی دیتا ہے ؟ " اس نے کہا: ہاں ۔ آپ ﷺ نے پوچھا: کیا تو گواہی دیتا ہے کہ محمد اللہ کے رسول ہیں ؟ اس نے کہا: ہاں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا " بلال ! لوگوں میں اعلان کر دو کہ صبح روزہ رکھیں ۔ "

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت