2187 حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُبَارَكِ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ مُعَتِّبٍ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا حَسَنٍ- مَوْلَى بَنِي نَوْفَلٍ-: أَخْبَرَهُ أَنَّهُ اسْتَفْتَى ابْنَ عَبَّاسٍ فِي مَمْلُوكٍ، كَانَتْ تَحْتَهُ مَمْلُوكَةٌ، فَطَلَّقَهَا تَطْلِيقَتَيْنِ، ثُمَّ عُتِقَا بَعْدَ ذَلِكَ، هَلْ يَصْلُحُ لَهُ أَنْ يَخْطُبَهَا؟ قَالَ: نَعَمْ، قَضَى بِذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ابوحسن مولیٰ بنی نوفل نے سیدنا ابن عباس ؓ سے پوچھا کہ غلام جس کی زوجیت میں کوئی لونڈی ہو ، وہ اسے دو طلاقیں دیدے ، پھر وہ دونوں اس کے بعد آزاد ہو جائیں تو کیا اس آزاد غلام کے لیے روا ہے کہ وہ اس ( اپنی پہلے والی بیوی ، یعنی اس آزاد لونڈی ) کو شادی کا پیغام دے ؟ انہوں نے کہا: ہاں ۔ رسول اللہ ﷺ نے اسی طرح فیصلہ فرمایا تھا ۔