3784 حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنِي قَبِيصَةُ بْنُ هُلْبٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَأَلَهُ رَجُلٌ فَقَالَ إِنَّ مِنْ الطَّعَامِ طَعَامًا أَتَحَرَّجُ مِنْهُ فَقَالَ لَا يَتَخَلَّجَنَّ فِي صَدْرِكَ شَيْءٌ ضَارَعْتَ فِيهِ النَّصْرَانِيَّةَ
جناب قبیصہ بن ہلب طلائی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا جبکہ ایک آدمی نے آپ ﷺ سے سوال کیا تھا کہ کچھ کھانے ایسے ہیں جن کے کھانے میں میں حرج سمجھتا ہوں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا " کوئی ( حلال ) چیز تیرے سینے میں شک و شبہ نہ ڈالے ' اس سے تو نصرانیوں ( راہبوں ) کے مشابہ ہو جائے گا ۔ "
فائدہ۔شرعًا حلال اورپاکیزہ چیزوں میں بلا وجہ معقول شک وشبہ کرنا جائز نہیں۔یہ نصرانی راہبوں کاکام تھا۔ کہ خوامخواہ شکوک وشبہات میں پڑ کر چیزوں کواپنے لئے حرام ٹھہرالیتے تھے۔کسی چیز کے بارے میں کوئی شبہ محسوس ہو تو ثقہ اہل علم کی طرف رجوع کرکے صحیح نتیجہ حاصل کرنا چا ہیے۔کہ یہ چیز حلال ہے یا حرام۔ہاں کوئی چیز طبعًا مرغوب نہ ہو تو اس سے احتراز کرنے میں حرج نہیں۔