3255 حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ قَالَ أَخْبَرَنَا هُشَيْمٌ ح و حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ عَنْ عَبَّادِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمِينُكَ عَلَى مَا يُصَدِّقُكَ عَلَيْهَا صَاحِبُكَ قَالَ مُسَدَّدٌ قَالَ أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي صَالِحٍ قَالَ أَبُو دَاوُد هُمَا وَاحِدٌ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي صَالِحٍ وَعَبَّادُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ
سیدنا ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا " تیری قسم اسی بات پر ہے جس پر تیرا ساتھی تجھ سے تصدیق کرا رہا ہے ۔ " جناب مسدد ؓ نے اس سند میں ( «عن عباد بن أبي صالح» کے بجائے ) «أخبرني عبد الله بن أبي صالح» کہا ہے ۔ امام ابوداؤد ؓ فرماتے ہیں: یہ دونوں عبداللہ بن ابی صالح اور عباد بن ابی صالح ایک ہی شخصیت ہیں ۔
مسلمانوں کے درمیان آپس میں تنازعات کے فیصلوں کے لئے اشارات وتعریضآات (توریے) سے قسم اٹھانا کسی طرح مفید مطلب نہیں۔بلکہ ناجائز ہے۔ البتہ کفار یا ظالموں سے آویزش ہو تو رخصت ہے۔