فهرس الكتاب

الصفحة 1244 من 5274

کتاب: نماز سفر کے احکام و مسائل

باب:( ایک اور کیفیت )امام ہر گروہ کو ایک رکعت پڑھائے پھر سلام پھیر دے ، تو جو لوگ اس کے پیچھے ہوں وہ کھڑے ہو کر اپنی( دوسری )رکعت پڑھ لیں ، پھر دوسرے لوگ ان کی جگہ پر آ جائیں اور اپنی ایک رکعت پڑھ لیں

1244 حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مَيْسَرَةَ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ، حَدَّثَنَا خُصَيْفٌ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَال:َ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ، فَقَامُوا صَفًّا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَصَفٌّ مُسْتَقْبِلَ الْعَدُوِّ، فَصَلَّى بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَةً، ثُمَّ جَاءَ الْآخَرُونَ فَقَامُوا مَقَامَهُمْ، وَاسْتَقْبَلَ هَؤُلَاءِ الْعَدُوَّ، فَصَلَّى بِهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَةً، ثُمَّ سَلَّمَ، فَقَامَ هَؤُلَاءِ فَصَلَّوْا لِأَنْفُسِهِمْ رَكْعَةً، ثُمَّ سَلَّمُوا، ثُمَّ ذَهَبُوا فَقَامُوا مَقَامَ أُولَئِكَ مُسْتَقْبِلِي الْعَدُوِّ، وَرَجَعَ أُولَئِكَ إِلَى مَقَامِهِمْ، فَصَلَّوْا لِأَنْفُسِهِمْ رَكْعَةً، ثُمَّ سَلَّمُوا.

سیدنا عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں نماز خوف پڑھائی ۔ ( مجاہدین نے دو صفیں بنائیں ) ایک صف رسول اللہ ﷺ کے پیچھے کھڑی ہوئی اور دوسری دشمن کے سامنے رہی ۔ آپ نے ان کو ( جو آپ کے پیچھے تھے ) ایک رکعت پڑھائی ، پھر دوسرے آ گئے اور ان لوگوں کی جگہ پر کھڑے ہو گئے اور یہ دشمن کے مقابلے میں چلے گئے ۔ نبی کریم ﷺ نے ان کو ایک رکعت پڑھائی اور خود سلام پھیر دیا ، تو ان لوگوں نے اٹھ کر اپنی ایک رکعت پڑھی اور سلام پھیرا ، پھر چلے گئے اور ان لوگوں کی جگہ پر جا کھڑے ہوئے ۔ جو دشمن کے سامنے تھے ۔ پھر دوسرے ان لوگوں کی جگہ پر آ گئے اور اپنی اپنی ایک رکعت پڑھی اور سلام پھیرا ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت