فهرس الكتاب

الصفحة 3187 من 5274

کتاب: جنازے کے احکام و مسائل

باب: بچے کی نماز جنازہ

3187 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ ابْنِ إِسْحَقَ حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ عَنْ عَمْرَةَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَاتَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ ابْنُ ثَمَانِيَةَ عَشَرَ شَهْرًا فَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

ام المؤمنین سیدہ عائشہ ؓا سے روایت ہے وہ بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے فرزند ارجمند سیدنا ابراہیم ؓ کی وفات ہو گئی جبکہ ان کی عمر اٹھارہ ماہ تھی ، تو رسول اللہ ﷺ نے اس کا جنازہ نہیں پڑھا تھا ۔

1۔بچہ جب زندہ پیدا ہو تو اس کی نماز جنازہ پڑھنامسنون ہے۔اس طرح اس بچے کی بھی نماز جنازہ پڑھنا جائز ہے جس کی ولادت قبل از وقت ہوجائے۔ اس کے لئے یہ شرط بھی نہیں کہ وہ زندہ بطن مادر سے باہر آئے۔بلکہ مردہ بھی ساقط ہوگا۔تب بھی اس کی نماز پڑھنی صحیح ہوگی۔بشرط یہ کہ اس حمل پر چار مہینے گزرچکے ہوں۔ نمازجنازہ میں اس کے والدین کےلئے مغفرت ورحمت کی دعا کیجائے۔ جس حدیث میں بچے کی نماز جنازہ کےلئے استھلال (زندگی ) کی شرطہے وہ ضعیف ہے۔ (احکام الجنائز للبانی) تاہم یہ ضروری اورواجب نہیں ایک مشروع امر ہے۔یعنی اگر کوئی نماز پڑھنا چاہے تو پڑھ سکتا ہے۔2۔حضرت ابراہیم ؑکی نمازجنازہ نہ پڑھنے کی وجہ شاید سورج گرہن کی نماز میں مشغولیت تھی یا ممکن ہے۔کہ اس فضیلت کی بناء پر جو انہیں رسول اللہ ﷺ کافر زندہ ہونے کی نسبت سے حاصل تھی۔اس پرکفایت کی گئی (خظابی)

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت