3232 حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ أَبِي مَسْلَمَةَ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ جَابِرٍ قَالَ دُفِنَ مَعَ أَبِي رَجُلٌ فَكَانَ فِي نَفْسِي مِنْ ذَلِكَ حَاجَةٌ فَأَخْرَجْتُهُ بَعْدَ سِتَّةِ أَشْهُرٍ فَمَا أَنْكَرْتُ مِنْهُ شَيْئًا إِلَّا شُعَيْرَاتٍ كُنَّ فِي لِحْيَتِهِ مِمَّا يَلِي الْأَرْضَ
سیدنا جابر ؓ بیان کرتے ہیں کہ میرے والد ایک دوسرے آدمی کے ساتھ دفن کیے گئے تو اس وجہ سے میرے جی میں تھا کہ ان کو وہاں سے نکال لوں ۔ چنانچہ میں نے انہیں چھ ماہ بعد وہاں سے نکالا ، تو ان میں کوئی تبدیلی نہ آئی تھی سوائے ڈاڑھی کے چند بالوں کے جو زمین کے ساتھ لگے ہوئے تھے ۔
کوئی واقعی معقول مصلحت ہو تو میت کو اس کی پہلی قبر سے نکال کر دوسری جگہ دفن کرنا جائز ہے۔