فهرس الكتاب

الصفحة 2195 من 5274

کتاب: طلاق کے احکام و مسائل

باب: تین طلاقوں کے بعد بیوی سے رجوع کرنا

2195 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: {وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنْفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ وَلَا يَحِلُّ لَهُنَّ أَنْ يَكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللَّهُ فِي أَرْحَامِهِنَّ} [البقرة: 228] الْآيَةَ، وَذَلِكَ أَنَّ الرَّجُلَ كَانَ إِذَا طَلَّقَ امْرَأَتَهُ فَهُوَ أَحَقُّ بِرَجْعَتِهَا، وَإِنْ طَلَّقَهَا ثَلَاثًا، فَنُسِخَ ذَلِكَ، وَقَالَ: {الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ} [البقرة: 229] .

سیدنا ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ آیت کریمہ «والمطلقات يتربصن بأنفسهن ثلاثة قروء ولا يحل لهن أن يكتمن خلق الله في أرحامهن» " طلاق والی عورتیں اپنے آپ کو تین حیض تک روکے رکھیں اور انہیں حلال نہیں کہ وہ وہ چیز چھپا لیں جو اللہ نے ان کے رحموں میں پیدا کی ہے ۔ " اس کی تفسیر میں بیان کیا کہ آدمی جب اپنی بیوی کو طلاق دیتا تھا تو وہی اس کی طرف رجوع کرنے کا زیادہ حقدار سمجھا جاتا تھا ، خواہ تین طلاقیں ہی دے چکا ہوتا ۔ اس کو منسوخ کر دیا گیا اور فرمایا «الطلاق مرتان» " ( قابل رجوع ) طلاق دو بار ہے ۔ "

طلاق کے سلسلے میں ہدایات کے نزول سے پہلے لوگ طلا ق دیتے اور رجوع کرتے رہتے تھے اور طلاقوں کی کوئی حد اور تعداد نہ تھی۔قرآن مجید نے انہیں صرف تین تک محدود کردیا ہے دو قابل رجوع ہیں اور تیسری پر رجوع نہیں ہوسکتا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت