فهرس الكتاب

الصفحة 5193 من 5274

کتاب: السلام علیکم کہنے کے آداب

باب: سلام عام کرنے کا حکم

5193 حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ حَتَّى تُؤْمِنُوا وَلَا تُؤْمِنُوا حَتَّى تَحَابُّوا أَفَلَا أَدُلُّكُمْ عَلَى أَمْرٍ إِذَا فَعَلْتُمُوهُ تَحَابَبْتُمْ أَفْشُوا السَّلَامَ بَيْنَكُمْ

سیدنا ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ گے جب تک کہ ایمان نہ لے آؤ ۔ اور تم اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے جب تک کہ آپس میں محبت نہ کرنے لگو ۔ کیا میں تمہیں ایسی بات نہ بتا دوں کہ اس پر عمل کرنے سے آپس میں محبت کرنے لگو ؟ آپس میں سلام بہت کیا کرو ۔ "

1:اسلام علیکم کہنا ،یعنی موقع بموقع سلام کہنے کو اپنی عادت بنا لینا ،اسلامی معاشرت کا اہم حصہ اور علامت ہے ۔

2:سلام کہنے کو اگر معمول بنا لیا جائے تو دوریاں ختم ہوتی اور قربتیں بڑھنے لگتی ہیں اور اجر وثواب مزید ملتا ہے بلکہ یہ ایمان کی تکمیل اور جنت میں داخلے کے استحقاق کا اثبات ہے ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت