فهرس الكتاب

الصفحة 2698 من 5274

کتاب: جہاد کے مسائل

باب: کفار کسی مسلمان کا مال لے اڑیں پھر اس کا مالک مال غنیمت میں اپنا مال پا لے

2698 حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ سُهَيْلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ أَبِي زَائِدَةَ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ غُلَامًا لِابْنِ عُمَرَ، أَبَقَ إِلَى الْعَدُوِّ، فَظَهَرَ عَلَيْهِ الْمُسْلِمُونَ، فَرَدَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى ابْنِ عُمَرَ، وَلَمْ يَقْسِمْ.

قَالَ أَبو دَاود: وَقَالَ غَيْرُهُ رَدَّهُ عَلَيْهِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ.

سیدنا ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ ان کا ایک غلام بھاگ کر دشمنوں کے پاس چلا گیا ۔ پھر مسلمان ان لوگوں پر غالب آ گئے تو رسول اللہ ﷺ نے وہ غلام ابن عمر ؓ کو واپس کر دیا اور ( بطور غنیمت ) تقسیم نہیں فرمایا ۔ امام ابوداؤد ؓ فرماتے ہیں ( یحییٰ بن ابی زائدہ کے علاوہ ) کسی دوسرے نے کہا کہ خالد بن ولید نے اسے واپس کیا تھا ۔

یہ روایت صحیح نہیں ہے۔البتہ اگلی روایت صحیح ہے۔جس میں یہ ہے کہ یہ واقعہ نبی کریمﷺ کی وفات کے بعد پیش آیا ہے۔ااورحضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وہ غلام یا گھوڑا واپس کیا تھا۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت