3505 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ عَنْ زَكَرِيَّا حَدَّثَنَا عَامِرٌ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ بِعْتُهُ يَعْنِي بَعِيرَهُ مِنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاشْتَرَطْتُ حُمْلَانَهُ إِلَى أَهْلِي قَالَ فِي آخِرِهِ تُرَانِي إِنَّمَا مَاكَسْتُكَ لِأَذْهَبَ بِجَمَلِكَ خُذْ جَمَلَكَ وَثَمَنَهُ فَهُمَا لَكَ
سیدنا جابر بن عبداللہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو اپنا اونٹ فروخت کیا اور ان سے شرط کر لی کہ میں اپنے گھر تک اس پر سواری کروں گا ۔ اس حدیث کے آخر میں کہا: ( رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ) " کیا تم سمجھتے ہو کہ میں نے تمہارا نقصان کیا ہے تاکہ میں تمہارا اونٹ لے لوں ؟ جاؤ ! اونٹ بھی لے جاؤ اور اس کی قیمت بھی ۔ دونوں ہی تمہارے ہیں ۔ "
فوائد ومسائل۔1۔بیع میں ا س کے کچھ دیر تک استعمال کی ایک شرط کرلینا جائز ہے۔2۔اگر ایسے ہی احسان کرنا مقصود ہو تو صاحب ضرورت کی عزت نفس کا خیال رکھا جائے۔جس طرح کے رسول اللہ ﷺ نے حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ معاملہ فرمایا۔