3285 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَاللَّهِ لَأَغْزُوَنَّ قُرَيْشًا وَاللَّهِ لَأَغْزُوَنَّ قُرَيْشًا وَاللَّهِ لَأَغْزُوَنَّ قُرَيْشًا ثُمَّ قَالَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ قَالَ أَبُو دَاوُد وَقَدْ أَسْنَدَ هَذَا الْحَدِيثَ غَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ شَرِيكٍ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَسْنَدَهُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ و قَالَ الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ شَرِيكٍ ثُمَّ لَمْ يَغْزُهُمْ
جناب عکرمہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا " اﷲ کی قسم ! میں قریش پر ضرور چڑھائی کروں گا ۔ اﷲ کی قسم ! میں قریش پر ضرور چڑھائی کروں گا ۔ " اﷲ کی قسم ! میں قریش پر ضرور چڑھائی کروں گا ۔ پھر فرمایا «إن شاء الله» " اگر اﷲ نے چاہا ۔ " امام ابوداؤد ؓ فرماتے ہیں: اس حدیث کو کئی ایک نے شریک سے ' انہوں نے سماک سے ' اس نے عکرمہ سے ' اس نے ابن عباس ؓ سے ' اس نے نبی کریم ﷺ سے مسند روایت کیا ہے ۔ ولید بن مسلم نے شریک سے روایت میں کہا ہے " پھر آپ ﷺ نے ان پر چڑھائی نہیں کی ۔ "
مستقبل کے امور میں ان شاء اللہ کہنا ضروری ہے۔قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ ( وَلَا تَقُولَنَّ لِشَيْءٍ إِنِّي فَاعِلٌ ذَٰلِكَ غَدًا) (الکہف۔23۔24۔) اور (اے نبی) آپ کسی شے کے متعلق نہ کہیں بے شک میں اسے کل کرنے والا ہوںمگر یہ کہ اللہ چاہے علاوہ ازیں قدرے توقف سے بھی کہے تب بھی جائز ہے۔