فهرس الكتاب

الصفحة 5225 من 5274

کتاب: السلام علیکم کہنے کے آداب

باب: پاؤں کو بوسہ دینا

5225 حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنُ الطَّبَّاعِ حَدَّثَنَا مَطَرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْنَقُ حَدَّثَتْنِي أُمُّ أَبَانَ بِنْتُ الْوَازِعِ بْنِ زَارِعٍ عَنْ جِدِّهَا زَارِعٍ وَكَانَ فِي وَفْدِ عَبْدِ الْقَيْسِ قَالَ لَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ فَجَعَلْنَا نَتَبَادَرُ مِنْ رَوَاحِلِنَا فَنُقَبِّلُ يَدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرِجْلَهُ قَالَ وَانْتَظَرَ الْمُنْذِرُ الْأَشَجُّ حَتَّى أَتَى عَيْبَتَهُ فَلَبِسَ ثَوْبَيْهِ ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ إِنَّ فِيكَ خَلَّتَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللَّهُ الْحِلْمُ وَالْأَنَاةُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَا أَتَخَلَّقُ بِهِمَا أَمْ اللَّهُ جَبَلَنِي عَلَيْهِمَا قَالَ بَلْ اللَّهُ جَبَلَكَ عَلَيْهِمَا قَالَ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَبَلَنِي عَلَى خَلَّتَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ

ام ابان بنت وازع بن زارع اپنے دادا زارع سے روایت کرتی ہیں اور یہ وفد عبدالقیس میں شریک تھے ۔ انہوں نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ! کیا میں ان باتوں کا تکلف سے اظہار کرتا ہوں ، یا اللہ عزوجل نے مجھے ان پر پیدا کیا ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا " بلکہ اللہ نے تمہیں ان پر پیدا فرمایا ہے ۔ " تو اس نے کہا: حمد اس اللہ کی جس نے مجھے ایسی عادتوں پر پیدا فرمایا ہے جنہیں اللہ اور اس کا رسول پسند فرماتے ہیں ۔

1-یہ روایت ضعیف ہے اور شیخ البانی ؒ کے نزدیک اس میں پاوں کا ذکر صحیح نہیں ۔ گویا ہاتھوں کو بوسہ دینا جائز ہے ۔

2:حوصلہ مند اور باوقاررہنا انسان کے شرف کو دوبالا کردیتا ہے جبکہ جلد بازی باوقارانسان کو زیب نہیں دیتی ۔

3: اچھی عادتیں فطری ہوں تو عزوجل کی حمد کرنی چاہیے اور ان پر کاربند رہنا چاہیے ۔ اگر فطری نہ ہوں تو انسان کو اپنی عادتیں اچھی بنانے کی کوشش کرنی چاہیے ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت