فهرس الكتاب

الصفحة 1638 من 5274

کتاب: زکوۃ کے احکام و مسائل

باب: ایک آدمی کو زکوٰۃ سے کس قدر دیا جائے ؟

1638 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّائِيُّ عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ زَعَمَ أَنَّ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ سَهْلُ بْنُ أَبِي حَثْمَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَدَاهُ بِمِائَةٍ مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَةِ يَعْنِي دِيَةَ الْأَنْصَارِيِّ الَّذِي قُتِلَ بِخَيْبَرَ

سیدنا سہل بن ابی حثمہ انصاری ؓ نے خبر دی کہ نبی کریم ﷺ نے ان کو صدقہ کے اونٹوں سے دیت ادا کی تھی ۔ یعنی اس انصاری کی دیت جو خیبر میں قتل کر دیا گیا تھا ۔

اس کی تفصیل آگے (باب القسامۃ ) میں آئے گی۔کہ عبد اللہ بن سہل رضی اللہ تعالیٰ عنہ خیبر میں قتل کردیئے گئے تھے۔تورسول اللہ ﷺ نے ان کی دیت ادافرمائی تھی۔اس سے استدلال یہ ہے کہ امیر یا صاحب صدقہ کو رخصت ہے کہ مستحقین کو صدقہ کے مال سے اتنا وے سکتے ہیں کہ حقدار کا حق پوراادا ہوجائے اور محتاج غنی ہوجائے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت