فهرس الكتاب

الصفحة 2409 من 5274

کتاب: روزوں کے احکام و مسائل

باب: بعض حضرات سفر میں روزہ رکھنے کو ترجیح دیتے ہیں

2409 حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ حَدَّثَتْنِي أُمُّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ غَزَوَاتِهِ فِي حَرٍّ شَدِيدٍ، حَتَّى إِنَّ أَحَدَنَا لَيَضَعُ يَدَهُ عَلَى رَأْسِهِ، أَوْ كَفَّهُ عَلَى رَأْسِهِ مِنْ شِدَّةِ الْحَرِّ، مَا فِينَا صَائِمٌ إِلَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَوَاحَةَ.

سیدنا ابو الدرداء ؓ سے مروی ہے کہ ہم ایک بار سخت گرمی میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ کسی غزوے کے لیے روانہ ہوئے ۔ گرمی اتنی تھی کہ ہر ایک اپنا ہاتھ یا اپنی ہتھیلی اپنے سر پر رکھے ہوئے تھا ۔ اور ہم میں سے رسول اللہ ﷺ اور عبداللہ بن رواحہ کے سوا اور کوئی روزے دار نہ تھا ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت