فهرس الكتاب

الصفحة 204 من 5274

کتاب: طہارت کے مسائل

باب‎: اگر کوئی گندگی کوروند کر آئے تو...؟

204 حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِي مُعَاوِيَةَ ح، وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنِي شَرِيكٌ وَجَرِيرٌ وَابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: كُنَّا لَا نَتَوَضَّأُ مِنْ مَوْطِئٍ، وَلَا نَكُفُّ شَعْرًا، وَلَا ثَوْبًا. قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي مُعَاوِيَةَ فِيهِ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ أَوْ حَدَّثَهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: وَقَالَ هَنَّادٌ: عَنْ شَقِيقٍ أَوْ حَدَّثَهُ عَنْهُ.

سیدنا عبداللہ بن مسعود ؓ نے فرمایا کہ ہم گندی پر سے چل کر آتے تھے اور وضو نہ کرتے تھے اور نہ ( اثنائے نماز میں ) اپنے بالوں یا کپڑوں کو سمیٹتے تھے ۔ ( اس حدیث کی سند میں ) ابراہیم بن ابی معاویہ نے یوں کہا ہے « عن الأعمش عن شقيق عن مسروق عن عبد الله » ( یعنی مسروق کے اضافہ کے ساتھ ) نیز یہ بھی کہ یہ سند یا تو « عن الأعمش عن شقيق قال قال عبد الله » ( بلفظ «عن» ) ہے یا « الأعمش حدث عن شقيق » ( بلفظ تصریح تحدیث ) ۔

یہ روایت بھی شیخ البانی﷫کےنزدیک صحیح ہے'اس میں بیان کردہ باتیں دوسری احادیث سےبھی ثابت ہیں۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت