فهرس الكتاب

الصفحة 1965 من 5274

کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل

باب: اہل مکہ کا قصر کرنا

1965 حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَقَ حَدَّثَنِي حَارِثَةُ بْنُ وَهْبٍ الْخُزَاعِيُّ وَكَانَتْ أُمُّهُ تَحْتَ عُمَرَ فَوَلَدَتْ لَهُ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ قَالَ صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى وَالنَّاسُ أَكْثَرُ مَا كَانُوا فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ قَالَ أَبُو دَاوُد حَارِثَةُ بْنُ خُزَاعَةَ وَدَارُهُمْ بِمَكَّةَ

سیدنا حارثہ بن وہب الخزاعی ؓ کی ماں سیدنا عمر ؓ کی زوجیت میں تھی اور ان سے ان کا بیٹا عبیداﷲ بن عمر پیدا ہوا تھا ۔ حارثہ نے کہا: میں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ منیٰ میں نماز پڑھی ۔ لوگوں کی تعداد بہت زیادہ تھی تو آپ نے ہمیں حجتہ الوداع میں دو رکعتیں پڑھائیں ۔ امام ابوداؤد ؓ نے کہا: حارثہ قبیلہ خزاعہ کے فرد تھے اور ان کا گھر مکہ میں تھا ۔

اس سےمعلوم ہوا کہ منی ٰ میں قصر کرنامناسک حج کا حصہ ہے اس لیے دیگر مسافرین کی طرح اہل مکہ بھی منیٰ میں نماز قصر کر کے ہی پڑھیں گے ۔ البتہ فریضہ حج کی ادائیگی کے بعد اہل مکہ کامنی ٰ میں قصر کرنا جائز نہ ہوگا ۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت