فهرس الكتاب

الصفحة 1655 من 5274

کتاب: زکوۃ کے احکام و مسائل

باب: فقیر صدقے کے مال میں سے غنی کو ہدیہ دے تو جائز ہے

1655 حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ قَالَ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِلَحْمٍ قَالَ مَا هَذَا قَالُوا شَيْءٌ تُصُدِّقَ بِهِ عَلَى بَرِيرَةَ فَقَالَ هُوَ لَهَا صَدَقَةٌ وَلَنَا هَدِيَّةٌ

سیدنا انس ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں گوشت پیش کیا گیا تو آپ ﷺ نے پوچھا " یہ کیا ہے ؟ " کہنے لگے ، بریرہ کو صدقہ دیا گیا تھا ( یہ اسی میں سے ہے ) آپ ﷺ نے فرمایا " وہ اس کے لیے صدقہ اور ہمارے لیے ہدیہ ہے ۔ "

1۔صدقہ اور ہدیہ میں فرق یہ ہے کہ صدقہ انسان کےفقر ومجبوری کے پیش نظر اللہ کی رضا اور آخرت کےثواب کےلئے دیاجاتا ہے۔۔۔جبکہ ہدیہ۔۔۔دیئے جانے والے کے اکرام اور اس سے قربت کی غرض سے دیا جاتا ہے۔نبی کریمﷺ کےلئے صدقہ حرام ہونے کی حکمت یہ بیان کی جاتی ہے کہ نبی کریمﷺ کی شان کے لائق نہیں تھا کہ آپ ﷺ پر اللہ کے سوا کسی اور کا احسان باقی رہے۔اسی لئے آپﷺ نے اپنے اوپر صدقہ حرام قرار دیا تھا۔ جبکہ آپ ﷺ ہدیہ قبول فرمالیتے اور صاحب ہدیہ کو اس کا بدلہ دے کر اس کے احسان سے بری الذمہ ہوجاتے تھے۔ 2۔اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ فقیر ومسکین صدقے کا مالک بن جانے کے بعد اس میں کامل تصرف کا حق رکھتا ہے۔خواہ ہدیہ دے یا دوسروں کو صدقہ دے جائز ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت