فهرس الكتاب

الصفحة 1685 من 5274

کتاب: زکوۃ کے احکام و مسائل

باب: بیوی کا ثواب ، جو اپنے شوہر کے گھر سے صدقہ دے

1685 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ مَسْرُوقٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أَنْفَقَتْ الْمَرْأَةُ مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا غَيْرَ مُفْسِدَةٍ كَانَ لَهَا أَجْرُ مَا أَنْفَقَتْ وَلِزَوْجِهَا أَجْرُ مَا اكْتَسَبَ وَلِخَازِنِهِ مِثْلُ ذَلِكَ لَا يَنْقُصُ بَعْضُهُمْ أَجْرَ بَعْضٍ

ام المؤمنین سیدہ عائشہ ؓا سے روایت ہے انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا " بیوی جب اپنے شوہر کے گھر سے خرچ کرے ( صدقہ دے ) جبکہ اسراف کرنے والی نہ ہو تو اسے صدقہ کرنے کا اور اس کے شوہر کو ک لانے کا ثواب ہے اور اس کے خزانچی کو بھی اسی قدر ہے ، ان میں سے کوئی بھی کسی کا اجر کم نہیں کرتا ۔ "

شوہر کی صریح اجازت نہ بھی ہوتو اس کے مزاج زوق عادت اور عرف سے سمجھی جاسکتی ہے۔ اور اس کے برعکس جہاں شوہر دینا چاہتا ہو مگر بیوی بخیل ہو۔۔۔اس کا حال خود سمجھا جاسکتا ہے۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت