فهرس الكتاب

الصفحة 77 من 5274

کتاب: طہارت کے مسائل

باب: عورت کے(استعمال سے)بچے ہوئے پانی سے وضو کرنا

77 حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ سُفْيَانَ حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أَغْتَسِلُ أَنَا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ وَنَحْنُ جُنُبَانِ

ام المؤمنین سیدہ عائشہ ؓا بیان کرتی ہیں کہ " میں اور رسول اللہ ﷺ ایک ہی برتن سے نہا لیا کرتے تھے جب کہ ہم دونوں جنبی ہوتے تھے ۔ "

فوائد و مسائل: (1) میاں بیوی شرعی لحاظ سے ایک دوسرے کا لباس ہیں اس لیے دونوں کے اکٹھے نہا لینے میں شرعًا کوئی قباحت نہیں۔ (2) جب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے برتن سے پانی لیا تو وہ عورت کا مستعمل ہو گیا۔ بعد ازاں رسول اللہ ﷺ پانی لیتے تو وہ ان کا مستعمل ہو جاتا۔ معلوم ہوا کہ بقیہ پانی کا استعمال جائز ہے خواہ عورت کا ہو یا مرد کا۔ بالخصوص جبکہ وہ دانا اور سمجھدار ہوں اور نامعقول طور پر پانی میں چھینٹے نہ ڈالتے ہوں۔

توضیح: حضرت خولہ رضی اللہ عنہا کا رسول اللہﷺ سے محرم ہونے کا کوئی رشتہ ثابت نہیں ہے۔ یہ واقعہ شاید6ھ آیات حجاب کے نزول سے پہلے کا ہو۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت