فهرس الكتاب

الصفحة 3845 من 5274

کتاب: کھانے کے متعلق احکام و مسائل

باب: کھانے کا لقمہ نیچے گر جائے تو ؟

3845 حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَعِيلَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ ثَابِتٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أَكَلَ طَعَامًا لَعِقَ أَصَابِعَهُ الثَّلَاثَ وَقَالَ إِذَا سَقَطَتْ لُقْمَةُ أَحَدِكُمْ فَلْيُمِطْ عَنْهَا الْأَذَى وَلْيَأْكُلْهَا وَلَا يَدَعْهَا لِلشَّيْطَانِ وَأَمَرَنَا أَنْ نَسْلُتَ الصَّحْفَةَ وَقَالَ إِنَّ أَحَدَكُمْ لَا يَدْرِي فِي أَيِّ طَعَامِهِ يُبَارَكُ لَهُ

سیدنا انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب کھانا تناول فر لیتے تو اپنی تینوں انگلیوں کو چاٹ لیتے اور فرماتے " جب کسی کا لقمہ گر جائے تو چاہیئے کہ اس سے لگی آلودگی کو دور کر کے اسے کھا لے اور اسے شیطان کے لیے نہ چھوڑے ۔ " اور آپ ﷺ نے ہمیں حکم دیا کہ ہم پلیٹ کو انگلی سے صاف کر لیا کریں اور فرمایا " تم میں سے کسی کو معلوم نہیں کہ طعام کے کس حصے میں اس کے لیے برکت ڈالی گئی ہے ۔ "

فوائد ومسائل۔1۔اس حدیث اور اگلی دونوں احادیث کی رو سے کھانے کے بعدانگلیاں چاٹ لینا یا چٹوالینا سنت ہے۔2۔گرا ہوا لقمہ اٹھا کرصاف کرکے کھا لینا چاہیے۔3۔قابل استعمال کھانے کوضائع کرناشیطان کو دینا ہے۔4۔اپنی پلیٹ میں کھانا اتنا ہی لیناچاہیے جتنی ضرورت ہو اور پھر آخر میں برتن کو خوب صاف کرنا چاہیے۔یہ کوئی معیوب کام نہیں بلکہ عین سنت ہے۔اور اس میں غروراورتکبرکاعلاج بھی ہے۔اس طرح روٹی کے ٹکڑے بھی ضائع کرنا جائز نہیں۔نا معلوم کس میں برکت ہو۔

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت