فهرس الكتاب

الصفحة 3247 من 5274

کتاب: قسم کھانے اور نذر کے احکام و مسائل

باب: غیر اللہ کے نام کی قسم کھانا

3247 حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ حَلَفَ فَقَالَ فِي حَلْفِهِ وَاللَّاتِ فَلْيَقُلْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَمَنْ قَالَ لِصَاحِبِهِ تَعَالَ أُقَامِرْكَ فَلْيَتَصَدَّقْ بِشَيْءٍ

سیدنا ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا " جس نے قسم کھائی اور اپنی قسم میں یوں کہا: قسم ہے لات کی ! تو اسے چاہیئے کہ کہے «لا إله إلا الله» اور جس نے اپنے ساتھی سے کہا: آؤ جوا کھیلیں ! تو اسے چاہیئے کہ کچھ صدقہ کرے ۔ "

غیر اللہ کے نام کی قسم کھانا شرک ہے۔ اگر کسی سے دانستہ ایسا ہوجائے۔ تو ا پرکفارہ نہیں بلکہ توبہ استغفار اور تجدید ایمان لازم ہے۔ تاہم نادانستہ غیر ارادی طور پر ایسے الفاظ زبان سے نکل جایئں۔تو اس کےلئے دل سے لا الہ الا اللہ پڑھ لینا کافی ہے۔اس طرح جوا کھیلنا حرام ہے۔ تو اس کا کفارہ صدقہ کرنا ہے۔ فرمایا۔ ( ۚ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ) (ھود۔114) نیکیاں گناہوں کو مٹا دیتی ہیں

حجم الخط:
شارك الصفحة
فيسبوك واتساب تويتر تليجرام انستجرام
. . .
فضلًا انتظر تحميل الصوت